عاشورہ محرم اور مجالس عزا کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کا تازہ ترین فیصلہ --لائسنس کی ضرورت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب پولیس جلوس....

لائسنس کی ضرورت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب پولیس جلوس کو امن کے لیے خطرہ قرار دے۔ 

واقعہ کربلا، حضرت امام حسین (علیہ السلام) پر ڈھائے جانے والے مظالم اور ان کے اہل خانہ کی شہادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام کے اخلاقی شعور میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صدیوں سے دلوں میں گونج رہا ہے اور ان نسلوں کے دلوں کو چیرتا ہے جو آج بھی نبی کریم ﷺ کے محبوب اہل بیت کا درد محسوس کرتی ہیں۔ اس عظیم قربانی کی یاد میں منعقد ہونے والی محافل پر پابندیاں عائد کرنا ناانصافی ہوگی، کیونکہ یہ اجتماعات محض فرقہ وارانہ رسومات نہیں ہیں بلکہ حق، انصاف اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی عالمی سطح پر یاد دہانی ہیں۔ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کا قیام ذاتی مفاد کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی ایک فرقے تک محدود تھا، بلکہ یہ انسانیت کے اخلاقی قطب نما کے تحفظ کے لیے تھا، اس اصول پر کہ سچائی کو ہر قیمت پر، حتیٰ کہ جان کی قربانی دے کر بھی، غالب آنا چاہیے۔ لہذا، اگرچہ ریاست دنیوی مقاصد کے لیے اجتماعات کو ضابطے میں لا سکتی ہے، لیکن ماتمی رسومات کی سہولت فراہم کرنے میں اسے ایک ہمدردانہ اور شریک کارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔ ہر وہ شہری جو اپنے گھر میں مجلسِ عزا منعقد کرنا چاہے یا واقعہ کربلا کی یاد میں جلوس نکالنا چاہے، اسے مالی وسائل یا سہولیات کی کمی کا بہانہ بنائے بغیر مکمل تعاون اور سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔ سرکاری افسران محض نگران یا ضابطہ کار نہیں ہیں بلکہ اس مقدس فریضے کے محافظ ہیں، جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ پابندیاں عائد کرنے کے بجائے عوامی تعاون اور سہولت فراہم کریں گے۔

لہٰذا، یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ ضلعی پولیس سربراہان اور ڈپٹی کمشنرز یومِ عاشورہ کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تعاون سے کام کریں گے۔ لائسنس اور اجازت ناموں کی منظوری کا عمل ماہِ محرم سے کم از کم ایک ماہ قبل شروع کر دیا جائے گا، اور پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوامی نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ شہریوں کو اپنی نیت اور ارادے سے آگاہ کرنے (رجسٹریشن) کی دعوت دی جائے گی، اور انتظامات کو ہم آہنگ بنانے، اخراجات کو کم سے کم کرنے اور اجتماعی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مشاورتی نشستیں منعقد کی جائیں گی۔ اس طرح ریاست محض پابندیاں عائد کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اپنے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوگی، تاکہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) کی اس ابدی جدوجہد کا احترام کیا جا سکے، جو آج بھی انسانیت کو ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بننے اور سچائی کے چراغ کو روشن رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

License is needed only if the police judge the procession a threat to peace.
The tragedy of Karbala, the tyranny unleashed upon Hazrat Imam Hussain (Alayhissalam) and the martyrdom of his family, is not a mere historical episode but a defining moment in the moral consciousness of Islam. It reverberates across centuries, piercing the hearts of generations who continue to feel the pain of the Prophet’s beloved household. To impose restrictions on assemblies convened to honor this sacrifice would be unjust, for these gatherings are not sectarian indulgences but universal reminders of truth, justice, and resistance against oppression. Hazrat Imam Hussain’s stand was not for personal gain, nor for one sect alone, but for the preservation of humanity’s moral compass, that truth must prevail even at the cost of life itself. Thus, while the State may regulate assemblies for worldly purposes, it must adopt a participatory spirit in facilitating mourning rituals. Every citizen who wishes to hold a Majlis within his home or lead a procession in remembrance of Karbala should be embraced, regardless of means or resources. Public servants are not merely regulators but custodians of this sacred duty, expected to support and facilitate rather than restrict.
Accordingly, it is directed that District Police Heads and Deputy Commissioners shall work in close collaboration to ensure the peaceful observance of Youm-e-Ashura. Licensing and permissions shall commence at least one month prior to Muharram, with public notices issued through print, electronic, and social media. Citizens shall be invited to register their intent, and discussions shall be convened to harmonize arrangements, minimize costs, and foster inclusivity. In this way, the State shall not merely regulate but stand shoulder to shoulder with its people, honoring the eternal struggle of Hazrat Imam Hussain, a struggle that continues to inspire humanity to rise against injustice and uphold the light of truth.
WP.7251-26
SYED WASI HAIDER VS
CPO ETC
Mr. Justice Muhammad Amjad Rafiq
19-06-2026

2026 LHC 3946












Post a Comment

0 Comments

close